ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اقوام متحدہ میں یوکرین میں خواتین کے خلاف روسی تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ

اقوام متحدہ میں یوکرین میں خواتین کے خلاف روسی تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ

Wed, 13 Apr 2022 12:54:17    S.O. News Service

جنیوا،13؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی)  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیر کو روس کے ہاتھوں یوکرینی خواتین پر تشدد اور بدسلوکی کا معاملہ چھایا رہا۔ عالمی ادارے کے  ذمے داران نے اس بات پر زور دیا  کہ یوکرین پر روسی حملے کے دوران یوکرینی عوام پر خاص طور پر خواتین پر  تشدد کی تحقیق کی جائے۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اس تنازع میں بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔یہ مطالبہ پیر کے روز سلامتی کونسل کے اس  اجلاس میں سامنے آیاجو امریکہ اور البانیا کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔

  خواتین سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سیما بحوث نے اس موقع پر کہا کہ ’’اس جنگ کو اب رک جانا چاہئے۔‘‘ادھر اقوام متحدہ کی بچوں سے متعلق تنظیم یونیسف میں ہنگامی پروگرام کے ڈائریکٹر مانویل فونٹین کا کہنا ہے کہ’’اب اس جنگ کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے ، یوکرین کے بچے مزید انتظار نہیں کر سکتے۔‘‘

 سیما بحوث کے مطابق یوکرین میں آبرو ریزی اور جنسی تشدد کی کارروائیوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سننے میں آ رہا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تحقیق ہونی چاہئے تا کہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔

 مانویل فونٹین یوکرین کے دورے سے واپس لوٹے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یوکرین میں قحط پڑنے کا خطرہ ہے۔ فونٹین کے مطابق یوکرین میں اس وقت 32؍ لاکھ بچے اپنے گھروں میں ہیں جن میں سے نصف کے قریب بچوں کو مطلوبہ خوراک نہ ملنے کا خطرہ درپیش ہے۔اجلاس سے قبل اقوام متحدہ میں ناروے کی خاتون سفیر مونا یول نے یوکرین میں جاری جنگ کے ملک میں بچوں کی تعلیم پر اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین میں اسکولوں کے بند ہوجانے سے ۵۷؍لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ ناروے کی سفیر نے روس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بچے بے قصور ہیں۔ ان کو ہلاک کرنے سے رکا جائے۔ ان کے مستقبل کو تباہ کرنے سے رکا جائے ۔ جنگ کو روک دیا جائے۔ یاد رہے کہ یوکرین کی جانب سے بارہا یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ روسی فوجی یوکرین خواتین کی عصمت دری کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کو قتل کرکے اجتماعی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔ بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی عصمت دری کو روسی فوجی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ عوام خوف کے مارےجلد از جلد علاقوں کو خالی کر دیں۔ 

  ادھر روس نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اسے یوکرین کی جانب سے کیا گیا پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ اب تک روس نے یوکرین جنگ کے معاملے میں اقوام متحدہ کی کسی بھی سفارش یا کسی بھی قرار داد کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔  ا س نے 24؍ فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا اور کیف اور ماریوپول جیسے علاقوں پر قبضہ کرلینے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اب تک ان شہروں میں مزاحمت جاری ہے۔ 


Share: